شیخ المعتوق کو سزائے موت کا حکم، اہلِ بیتؑ کے پیروکاروں کے خلاف صہیونی جنگ کا عربی لبادہ: شیخ عادل الشعلة

خلیج فارس کے خطے میں اہلِ بیتؑ کے پیروکاروں کے خلاف جاری جنگ دو فرقوں کے درمیان تصادم نہیں بلکہ شیعوں کے خلاف ایک سیاسی مہم ہے، جس میں تفرقہ پھیلانے اور بالادستی حاصل کرنے کے لیے فرقہ واریت کو صہیونی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔
بحرین کے شیعہ عالم دین شیخ عادل الشعلة نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ اگر کسی مسلمان حکمران کی جانب سے دین کو خطرہ لاحق ہو تو اہلِ ایمان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس خطرے کے خلاف مزاحمت کریں، کیونکہ ایسا حکمران مسلمان ہونے کے باوجود ظالم طاغوتوں میں شمار ہوتا ہے۔ جب تک وہ ظلم، ناانصافی اور مسلمانوں پر زیادتی کے ذریعے حکومت کرتا رہے گا، وہ باغیوں اور سرکشوں کے زمرے میں آئے گا اور اس کے ظلم و سرکشی کے خلاف جدوجہد دین کے دفاع کا تقاضا ہے۔
انہوں نے اپنے مؤقف کی تائید میں امام حسینؑ کے یزید کے خلاف مؤقف کا حوالہ دیتے ہوئے آپؑ کا یہ فرمان نقل کیا:
’’جو شخص کسی ایسے ظالم حکمران کو دیکھے جو اللہ کی حرمتوں کو پامال کرتا ہو، اس کے عہد کو توڑتا ہو، رسول اللہؐ کی سنت کی مخالفت کرتا ہو اور اللہ کے بندوں کے درمیان گناہ اور زیادتی کے ساتھ حکومت کرتا ہو، پھر اپنے قول یا عمل سے اس کی روش بدلنے کی کوشش نہ کرے تو اللہ پر حق ہے کہ اسے بھی اسی مقام پر پہنچائے جہاں وہ حکمران پہنچے گا۔
شیخ عادل الشعلة نے کہا کہ حقیقی اسلام کا دفاع، جان، مال، عزت اور ناموس کے دفاع سے کم اہمیت نہیں رکھتا۔
خلیج فارس کے خطے میں دین کو محدود کرنے کے لیے حکمران نظام کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کی نصرت کا ایک راستہ نمازِ جمعہ اور نمازِ جماعت کی حمایت کرنا ہے، کیونکہ یہ وہ عبادات ہیں جنہیں اللہ نے اپنی بندگی کے لیے مقرر کیا ہے۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ آج بحرین میں اس نوعیت کی عبادات کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ درجنوں علما کو جھوٹے اور گمراہ کن الزامات کے تحت زبردستی گرفتار کیا جا رہا ہے، جبکہ سکیورٹی اور فوجی طاقت استعمال کرتے ہوئے نمازِ جمعہ کی ادائیگی بھی روکی جا رہی ہے۔ ان میں بحرین کی سب سے بڑی نمازِ جمعہ بھی شامل ہے، جس کے تمام خطیبوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق، بحرین میں اب تک 109 نمازِ جمعہ پر پابندی عائد کی جا چکی ہے۔
شیخ الشعلة نے مزید کہا کہ اللہ کی نصرت کا ایک اور طریقہ ان ذرائع کی حمایت کرنا ہے جنہیں اللہ نے اپنی مخلوق کی ہدایت کے لیے فراہم کیا ہے، جن میں قرآن، سنتِ رسولؐ اور پاکیزہ عترتؑ شامل ہیں۔ دینی خطاب بھی اسی راستے کا ایک ذریعہ ہے اور اس کی خودمختاری کا تحفظ درحقیقت دین کی حمایت ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ جب دین خطرے میں ہو تو اہلِ ایمان پر لازم ہے کہ حکمت اور اچھی نصیحت کے ذریعے پُرامن مزاحمت کریں اور ظالم کو دین کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہ دیں۔ یہ مزاحمت کبھی بالواسطہ طور پر برائی کے خلاف مؤقف اختیار کرنے کی صورت میں ہوتی ہے اور کبھی براہِ راست بھی کی جاتی ہے۔
بحرینی عالم دین نے وضاحت کی کہ بالواسطہ پُرامن مزاحمت میں حکام کے ان حالیہ فیصلوں کو مسترد کرنا بھی شامل ہے جن کے ذریعے دین پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ان میں ان افراد سے تعلق ختم کرنا بھی شامل ہے جنہیں نمازِ جماعت کی امامت، دینی خطاب، منبر پر جانے، نوحہ و مدح خوانی یا شرعی حقوق وصول اور تقسیم کرنے کے لیے سرکاری اجازت نامے جاری کیے جاتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اہلِ ایمان کو دین کے معاملات میں برائی کے ان اقدامات کے خلاف ایسے افراد سے تعلقات منقطع کرنے چاہییں۔ اس مقصد کے لیے ان کی اقتدا میں نماز پڑھنے، ان کے منبر یا مذہبی جلوس و اجتماعات میں شرکت کرنے اور انہیں شرعی حقوق ادا کرنے سے گریز کیا جا سکتا ہے، تاکہ طاغوت کو دینی امور پر تسلط اور مداخلت کا موقع نہ ملے۔
شیخ الشعلة نے براہِ راست پُرامن مزاحمت کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اس کا ایک طریقہ مسجد، منبر، حسینیہ، مذہبی جلوس اور شرعی حقوق سے متعلق امور کے ذمہ دار حکام سے اجازت نامے حاصل نہ کرنا ہے۔ ان کے بقول، اس کا مقصد یہ ہے کہ کوئی شخص ’’ایسا جانور نہ بنے جس کا دودھ دوہا جائے یا ایسی سواری نہ بنے جس پر کوئی سوار ہو۔‘‘ اس طرح معاشرے کو بالواسطہ پُرامن مزاحمت کی پوری ذمہ داری تنہا نہیں اٹھانا پڑے گی۔ انہوں نے کہا کہ دین کے دفاع کی نوعیت اور اس کی حدود کا تعین ایسا عادل فقیہ کرے گا جو سیاسی اور شرعی قیادت کی شرائط پر پورا اترتا ہو۔
انہوں نے بحرین، متحدہ عرب امارات اور کویت میں اہلِ بیتؑ کے پیروکار علما کی گرفتاریوں، انہیں مبینہ طور پر غیر شفاف عدالتی کارروائیوں کے ذریعے دباؤ میں رکھنے اور ان کے دینی امور پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوششوں پر بھی تنقید کی۔
آیت اللہ شیخ حسین المعتوق کو سنائی گئی سزائے موت کی مذمت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ کسی مخصوص سکیورٹی صورتحال تک محدود نہیں بلکہ ایک ایسے منصوبے کا حصہ ہے جس کا ہدف رسول اکرمؐ اور اہلِ بیتؑ کا دین ہے۔
شیخ الشعلة نے مزید کہا: ’’میں اسے فرقہ وارانہ جنگ نہیں کہتا، کیونکہ اہلِ بیتؑ کے پیروکار امن پسند ہیں اور دنیا بھر میں اپنے مسلمان بھائیوں کے حامی ہیں۔ باشعور مسلمان جانتے ہیں کہ شیعہ مشکلات، جہاد اور مظلومیت کے حالات میں ان کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں۔ شیعوں کے خلاف جنگیں صرف اس لیے مسلط کی جا رہی ہیں کہ وہ فلسطین کی حمایت کرتے ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ خلیج فارس کے خطے میں اہلِ بیتؑ کے پیروکاروں کے خلاف جاری جنگ دو فرقوں کی جنگ نہیں بلکہ شیعوں کے خلاف ایک سیاسی جنگ ہے، جس میں فرقہ واریت کو تفرقہ پیدا کرنے اور بالادستی حاصل کرنے کے لیے صہیونی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔
آخر میں شیخ الشعلة نے خطے میں گرفتاریوں، بالخصوص اہلِ ایمان خواتین اور مخلص علما کی حراست کی ایک بار پھر مذمت کی۔ انہوں نے خلیج فارس کے ممالک میں غیر شفاف اور غیر منصفانہ عدالتی کارروائیوں کے ذریعے سنائی جانے والی تمام ظالمانہ سزاؤں، خصوصاً ان سزائے موت کے فیصلوں کو سختی سے مسترد کیا جن میں بے گناہ انسانوں کے خون کو ارزاں سمجھا گیا ہے۔
شیخ المعتوق اور ان کے مومن ساتھیوں کے خلاف حالیہ سزائے موت کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ ظالمانہ احکامات ظاہر کرتے ہیں کہ خطے میں اہلِ بیتؑ کے پیروکاروں کو جس جنگ کا سامنا ہے، وہ عربی لبادے میں جاری ایک صہیونی جنگ ہے، جس کا مقصد انہیں یہ احساس دلانا ہے کہ ان کا دین اور حقوق خطرے میں ہیں۔