نئی جغرافیائی حدود میں دشمن کے نئے اہداف کی شناخت شروع ہو گئی ہیں، سپاہ کے ترجمان

سپاہ پاسدارانِ انقلاب اسلامی کے ترجمان نے کہا: سپاہ پاسدارانِ کی فورسز نے دو دن پہلے سے نئی جغرافیائی حدود میں نئے اہداف کی شناخت اور ان اہداف کے خلاف آپریشن کی منصوبہ بندی کو اپنے ایجنڈے میں شامل کر لیا ہے۔

 سپاہ پاسدارانِ انقلاب اسلامی کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل پاسدار سردار حسین محبی نے صوبہ کرمان میں ‘ثاراللہ کور’ کی چوتھی صوبائی کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے کہا: امامِ شہید نے فرمایا تھا کہ اگر جنگ ہوئی تو ہم جنگ کو علاقائی حدود تک پھیلا دین گے؛ جنگ شروع ہوئی اور ہم نے بھی اس کو پورے علاقے تک پھیلا دیا؛ اب رہبر انقلاب نے بھی فرمایا کہ اب ہم خاص جغرافیائی حدود تک محدود نہیں رہیں گے؛ چنانچہ جغرافیائی محدودیت ہٹانے سے ہمیں دشمن کے حملے کے مقابلے میں آپریشن کی منصوبہ بندی، دشمن کو نقصان پہنچانے اور مکمل تسدید تک پہنچنے کے لئے ایک وسیع میدان ملا ہے۔

انھوں نے واضح کیا کہ سپاہ پاسدارانِ انقلاب اسلامی نے دو دن پہلے سے دشمن کے حملے کی صورت میں نئی جغرافیائی حدود میں نئے اہداف کی شناخت اور ان کے خلاف کاروائی کی منصوبہ بندی کو اپنے ایجنڈے میں شامل کر لیا ہے۔

بریگیڈیئر حنرل محبی نے اعلان کردہ اہداف تک پہنچنے میں دشمن کی شکست کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: دشمن دو بڑے اہداف حاصل کرنے کے درپے تھا: نظام حکومت کو گرا دینا اور ایران کی تقسیم؛ لیکن جب اس نے دیکھا کہ یہ دو اہداف پورے نہیں ہوئے، تو وہ آہستہ آہستہ اپنے اہداف کم کر دیئے اور میزائل کی رینج کم کرنے، جوہری سرگرمیوں کا امتداد روکنے، یورینیم کی ملک سے باہر منتقلی، تیل کے کنوؤں اور ایک جزیرے پر قبضہ کرنے جیسے معاملات تک پسپا ہو گیا، لیکن ان چھوٹے اہداف مین بھی ناکام رہا اور یہی نہیں بلکہ، اسے خلیج فارس کی آبی گذرگاہ ـ آبنائے ہرمز ـ کھولنے میں بھی مشکل پیش آئی۔

سپاہ پاسدارانِ انقلاب اسلامی کے ترجمان نے مزید کہا: اگر ہم فتح اور شکست کی تعریف کرنا چاہیں، تو ایک مرحلے میں ہمارے معیارات میں سے ایک یہ ہے کہ ہم دیکھیں دشمن نے کیا ہدف مقرر کیا تھا؛ اگر وہ اپنے ہدف تک پہنچ جائے تو وہ فاتح ہے، لیکن ہم نے اسے اپنے اہداف تک نہیں پہنچنے دیا؛ چنانچہ وہ شکست کھا گیا، پیچھے ہٹ گیا اور مذاکرات اور ثالثی کی درخواست کی طرف مائل ہوا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *