حصۂ اول | آبنائے ہرمز کی طاقت ایران کے ہاتھ میں ہیں، الجزیرہ کے تجزیہ کار

الجزیرہ کے تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں کاروائیاں جس قدر بڑھیں گی سب امریکہ کے مضبوط ارادے کے سامنے امریکہ کی ٹوٹ پھوٹ کی علامت بن کر ابھریں گی۔ امریکہ آبنائے ہرمز میں نئے حقائق کو نہیں بدل سکا ہے۔
الجزیرہ کے تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں کاروائیاں جس قدر بڑھیں گی سب امریکہ کے مضبوط ارادے کے سامنے امریکہ کی ٹوٹ پھوٹ کی علامت بن کر ابھریں گی۔ امریکہ آبنائے ہرمز میں نئے حقائق کو نہیں بدل سکا ہے۔
آبنائے ہرمز میں جتنی کاروائیاں ہونگی امریکہ اتنا ہے ایران کے زبردست ارادے کے مقابلے میں شکست اور انفعالیت سے دوچار ہوگا۔
ڈاکٹر محجوب اکتوبر کے واقعات کے بارے میں آپ کا جائزہ کیا ہے؟
قطری یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر محجوب الزویری: سلمیٰ ہرمز کے اوپر واشنگٹن اور تہران کے درمیان ہمہ جہت جنگ ہو رہی ہے۔
جنگ کی صورت حال یہ ہے کہ امریکہ جتانا چاہتا ہے کہ آبنائے ہرمز کھلا ہے اور اس سے منتقل ہونے والے تیل کی مقدار 28 فروری سے قبل کے ایام سے بھی زیادہ ہے!
ایران دکھا رہا ہے کہ آبنائے ہرمز کی صورت حال بالکل معمول کے مطابق نہیں ہے اور ان کی دلیل یہ ہے کہ ستمبر اوراکتوبر میں اس مقام پر 55 کاروائیآں ہوئی ہیں۔
فروری سے اب تک اس قسم کی 90 کاروائیاں ہوئی ہیں۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ آبنائے غیر محفوظ ہے اور محفوظ منتقلی ناممکن ہے۔
ایران اس حقیقت کو اپنی فتح کے عنوان سے مستحکم کر رہا ہے۔
دوسرا نکتہ یہ ہے کہ آبنائے ہرمز کی صورتحال جنگ کے آخری منظرنامے میں ـ فتح یا شکست کی تعریف کے ضمن میں ـ بہت اہم ہے؛ میدان کی حدود جتنی تنگ تر ہوگی اور برآمدات میں اضافے کے باوجود تیل کی قیمت کم نہ ہو تو یہ ایران کے لئے ایک سیاسی اور تزویراتی فتح ہوگی۔
آبنائے ہرمز کاروائیاں جتنی زیادہ ہونگی امریکہ اتنا ہی ایران کے زبردست ارادے کے مقابلے میں شکست اور انفعالیت سے دوچار ہوگا۔ اس میدان کے بارے میں ایرانی یہی کہتے ہیں۔
حقیقت بھی یہ ہے کہ امریکہ تیل کی قیمتیں کم کرنے میں ناکام رہا ہے اور اس بنیادی حقیقت کو تبدیل کرنے میں شکست کھا گیا ہے کہ ان واقعات نے آبنائے ہرمز کو تناؤ کا بہت بڑا مرکز بنا دیا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔