گیند امریکہ کے کورٹ میں ہے، اگر جنگ نہیں چاہتا تو اسے روک دے

مجلس شورائے اسلامی (پارلیمان) کے اسپیکر نے کہا: اسلامی جمہوریہ ایران جنگ کے لئے مکمل طور پر تیار ہے؛ ہم نے امریکی فریق کو باوقار اور معقول جواب دے دیا ہے اور اب گیند امریکہ کے کورٹ میں ہے؛ اگر وہ جنگ نہیں چاہتا تو اسے روک دے۔

مجلس شورائے اسلامی کے اسپیکر ڈاکٹر محمد باقر قالیباف نے آج منگل (3 نومبر) کو اسمبلی کے  اجلاس کے باقاعدہ آغاز سے قبل خطاب کرتے ہوئے یوم اللہ 13 آبان (4 نومبر) ـ یعنی عالمی استکبار کے خلاف جدوجہد کے قومی دن کے موقع پر، ـ حضرت امام خمینی (رضوان اللہ علیہ) کی جلاوطنی، 1978 میں ظالم پہلوی رجیم کے ہاتھوں طلبہ کی مظلومانہ شہادت اور 1979 میں امریکہ کے جاسوسی مرکز پر طلباء کے قبضے کے تین تاریخ ساز واقعات کا ذکر کرتے ہوئے کہا: ان تینوں واقعات کی جڑ ایک ہی حقیقت میں ہے اور وہ یہ ہے کہ امریکہ جس دن سے طاقتور ہؤا ہے آج تک جب بھی ممکن ہؤا ہے، ایران کو نگلنے کے لئے کوشاں رہا ہے۔

مجلس شورائے اسلامی کے اسپیکر ڈاکٹر محمد باقر قالیباف نے کہا:

ایک زمانے میں وہ اپنا یہ ہدف کٹھ پتلی حکمرانوں کے سپرد کرنے کے ذریعے حاصل کرتا تھا اور آج جب اسے ایران کی متحد اور خودمختار قوم کی مزاحمت کا سامنا ہے، تو وہ فوجی، اقتصادی اور ادراکی جنگ کے ذرائع استعمال کر رہا ہے۔ امریکہ کی ایرانی قوم سے گہری دشمنی کی جڑ بھی یہی مسئلہ ہے کہ ہماری قوم اس حریصانہ ہدف کے سامنے کھڑی ہے اور اپنی حریت پسندی کو دنیا کی دیگر آزاد قوموں کے لئے ایک آرزو بنا دیا ہے۔

عوام کی یہی مزاحمت اور استقامت نے غاصب صہیونی رجیم اور امریکیوں کو بے بس کر دیا ہے اور وہ نہیں جانتے کہ استوار اور ثابت قدم ایرانی قوم کے ساتھ کریں تو کیا کریں۔

امریکیوں اور ان کے علاقائی پیروکاروں نے گذشتہ دو مسلط جنگوں میں سمجھ لیا ہے کہ ایران کو للچائی ہوئی نظر سے دیکھنے کا دور ختم ہو چکا ہے۔

مسلح افواج کے سالار اعلیٰ اور انقلاب اسلامی کے رہبر معظم حضرت آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای (حفظہ اللہ) نے دشمن کے ممکنہ حملے کے مقابلے میں ہماری فوجی حکمت عملی واضح کر دی ہے۔ اس بنیاد پر دشمن کی کسی بھی غلط فہمی پر ہمارا فوجی اور اسٹراٹیجک جواب غیر متوقعہ ہوگا، اس طرح کہ جغرافیائی حدود کی پروا کئے بغیر ہم ان کے غلط حساب کتاب کا طومار کو ان کے تمام مادی اور غیر مادی اثاثوں سمیت لپیٹ لیں گے۔

دشمن کسی بھی صورت میں ہمارے اسٹراٹیجک اور فوجی جوابات کی سطح اور نوعیت کا اندازہ نہیں لگا سکے گا۔

امریکی فریق کو باوقار اور معقول جواب دیا جا چکا ہے

خطے کے ممالک جان لیں کہ اسلامی جمہوریہ ایران جس طرح جنگ کے لئے انگلی ٹریگر پر رکھے، تیار ہے، اسی طرح سفارت کاری کے میدان میں بھی امریکی فریق کو باوقار اور معقول جواب دے چکا ہے اور اب گیندہ امریکہ کے کورٹ میں ہے اور اگر وہ جنگ نہیں چاہتا تو اسے روک دے۔

ساتھ ہی ہم میدانی اور فوجی شعبے میں اعلیٰ ترین سطح کی تیاری اور دفاعی حالت میں ہیں اور اگر واشنگٹن پھر کوئی اسٹریٹجک غلطی کرے تو اسے جان لینا چاہئے کہ اس بار اسے جنگ کے ایک نئے میدان کا سامنا ہوگا اور وہ پہلے سے کہیں زیادہ، بے بس ہو کر فرار کا راستہ تلاش کرے گا۔

ہم سب ملک کے خادمین اور ذمہ داران ایک مرکوز منصوبہ بندی کے ساتھ ہر میدان میں لڑنے کے لیے تیار ہیں۔

ہم سب اتحاد، ہم آہنگی اور یکجہتی کے ساتھ دفاعی، خدمت اور سفارت کاری کے میدانوں میں اپنے زمانے کے ولی فقیہ کی حکیمانہ ہدایات کے تحت دشمن کی سازشوں اور اقدامات کے فیصلہ کن مقابلے پر مرکوز ہیں اور اپنی دوہری تخلیقی کوششوں سے، اللہ کی مدد اور حضرت ولی عصر (عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف) کی عنایات اور اپنے عزیز ایران کے تمام طبقات کے ساتھ مل کر، ہر قسم کے مشکل راستے کو کامیابی سے طے کریں گے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *