ٹرمپ بے لگام ہو چکا ہے، اس بارے میں کچھ سوچنا پڑے گا، ہیلری کلنٹن

امریکہ کی سابق وزیر خارجہ اور 2016 کے انتخابات میں ٹرمپ کی انتخابی حریف، ہیلری کلنٹن کہتی ہے کہ ٹرمپ کے رویئے معمول سے ہٹ گئے ہیں اور میں اس حوالے سے فکرمند ہوں۔
امریکہ کی سابق وزیر خارجہ نے سی این این نیٹ ورک سے گفتگو میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ اب “مکمل طور پر بے قابو اور بے لگام” ہو چکا ہے اور ہمیں ٹرمپ کے بے لگام رویوں پر تشویش ہے۔
کلنٹن نے ٹرمپ کے بارے میں ایک ویڈیو بیان میں کہا: “میرے خیال میں وہ راستہ کھو چکا ہے۔”
ہیلری کلنٹن نے ٹرمپ کی موجودہ صورتحال کا 2016 سے موازنہ کرتے ہوئے مزید کہا کہ اس وقت ٹرمپ کے پاس کم از کم اپنا تعارف کرانے کے لئے ایک واضح پروگرام اور نظریہ تھا اور اس کے ارد گرد ایسے لوگ موجود تھے جو اسے قابو میں رکھ سکتے تھے یا اس کے فیصلوں کے سامنے کھڑے ہو سکتے تھے۔
کلنٹن کا کہنا تھا: ٹرمپ اب ایسی کسی حد پر رکتا ہے، اب وہ مکمل طور پر بے قابو اور بے لگام ہو چکا ہے۔”
کلنٹن نے ٹرمپ کے مزید بے لگام ہونے کے امکان کے بارے میں بھی تشویش کا اظہار کیا اور زور دیا کہ کانگریس، عدالتوں، ریاستوں کے اٹارنی جنرلز اور دیگر اداروں کو صدر کے ممکنہ اقدامات کے نتائج کو قابو میں رکھنے اور ان سے ہونے والے نقصانات کو کنٹرول کرنے کے لئے تعاون کرنا چاہئے۔
ہیلری کلنٹن نے ٹرمپ کی طاقت کو محدود کرنے اور اس کے اقدامات کے ممکنہ نقصانات کو روکنے میں نگران اور عدالتی اداروں کا کردار اہم ہے اور انہیں کردار ادا کرنا چاہئے۔