ایران کے جوہری ڈاکٹرائن کی تبدیلی کا عوامی مطالبہ موجود ہے، باضابطہ فیصلہ نہیں ہؤا، جنرل رضائی

اسلامی جمہوریہ ایران کی اعلیٰ قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری نے کہا: ایرانی قوم ملک کی اصل مالک ہے اور اپنی خواہشات اور مطالبات ملکی حکام کو بتاتی ہے، لیکن ابھی حکومت اور ریاست کی طرف سے اس حوالے سے کوئی باضابطہ فیصلہ نہیں ہوا۔ البتہ اب یہ مسئلہ زیر بحث ضرور ہے کہ اگر دوبارہ جنگ ہوئی تو کیا ہم اسی پرانے ڈاکٹرائن پر کاربند رہنا چاہیں گے یا نہیں۔ گوکہ ہماری پارلیمان میں ہمارے دوست اس پر ظاہراً ابتدائی کام کر رہے ہیں۔

اسلامی جمہوریہ ایران کی اعلیٰ قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری میجر جنرل ڈاکٹر محسن رضائی نے کہا:

ایرانی قوم ملک کی اصل مالک ہے اور اپنی خواہشات اور مطالبات ملکی حکام کو بتاتی ہے، لیکن ابھی حکومت اور ریاست کی طرف سے اس حوالے سے کوئی باضابطہ فیصلہ نہیں ہوا۔ البتہ اب یہ مسئلہ زیر بحث ضرور ہے کہ اگر دوبارہ جنگ ہوئی تو کیا ہم اسی پرانے ڈاکٹرائن پر کاربند رہنا چاہیں گے یا نہیں۔ گوکہ ہماری پارلیمان میں ہمارے دوست اس پر ظاہراً ابتدائی کام کر رہے ہیں۔

ایرانی قوم کے مطالبات ہیں اور وہ ایک منطق کی تلاش میں ہے۔ بہرحال لوگ دیکھتے ہیں کہ دشمن آیا اور ہمارے تمام جوہری مراکز کو نشانہ بنایا؛ لیکن اس کی وجہ کیا تھی؟

ہم نے ایجنسی کے تمام معائنوں کا مثبت جواب دیا اور مدد کی کہ معائنہ کار آئیں اور ہماری سائٹس کا معائنہ کریں۔ ہماری تمام سائٹس میں کیمرے لگے تھے جو سائٹس کے اندر ہونے والے واقعات کو براہ راست آئی اے ای اے کے مرکز میں منتقل کرتے تھے۔

جب لوگ یہ باتیں دیکھتے ہیں، تو فطری طور پر ان کا ہم سے مطالبہ یہ ہوتا ہے کہ آپ موجودہ صورتحال کو کیوں جاری رکھنا چاہتے ہیں اور ایران کا بنیادی نظریہ کیوں تبدیل نہیں ہونا چاہئے؟

البتہ میں ایک بار پھر زور دے کر کہتا ہوں کہ اب تک اسلامی جمہوریہ کے سیاسی ڈھانچے میں اس حوالے سے کوئی رسمی فیصلہ نہیں ہؤا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *