November 6, 2026

JWD NEWS

International News Portal in Urdu, English & Persian

پاکستان کرکٹ ٹیم کے کنگ بابر اعظم کو کس کی نظر لگ گئی

پاکستان کرکٹ ٹیم کے کنگ بابر اعظم کو کس کی نظر لگ گئی۔ جو پہلے بڑے بڑے اسکور کرتا تھا اب اس سے رنز کیوں نہیں بن رہے۔ کیا بابر اعظم دباوٗ میں ہیں۔ کیا واقعی بابر اعظم کا ساتھ دینے والا کوئی نہیں۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ بابر کی کارکردگی نیچے کی طرف کیوں جارہی ہے۔ بابر اعظم جو کبھی ٹیم کی کامیابی کی وجہ سمجھے جاتے تھے۔ اب ان کا ٹیم میں ہونا اور وکٹ پر کھڑے رہنا ٹیم کی ناکامی کی وجہ کیوں سمجھا جارہا ہے۔ بابر اعظم ٹیسٹ، ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی تینوں فارمیٹ میں ہی بڑی اننگز کھیلنے سے قاصر ہیں۔

ٹی 20 میں بابر اعظم نے رواں سال 9 میچز کھیل کر167 رنز بنائے جس میں 1 نصف سنچری شامل ہے۔ ان کی رنز بنانے کی اوسط صرف 27.83 رہی۔ جبکہ اسٹرئیک ریٹ صرف 117 کا رہا۔ ون ڈے کرکٹ میں بھی بابر اعظم کا بیٹ خاموش ہے۔ یوں تو ایک روزہ کرکٹ میں بابر اعظم کی اوسط 52 کی ہے جس میں 20 سنچریاں اور38 نصف سنچریاں شامل ہیں لیکن سال 2026 بابر کیلئے ڈراونا خواب بنا ہو ا ہے۔ رواں سال بابر اعظم نے 8 میچز کھیل کر 30 رنز کی اوسط سے 243 رنز بنائے ہیں۔ جس میں بابر کا اسٹرئیک ریٹ صرف 68.83 کا ہے۔ جو ماڈرن ڈے کرکٹ کیلئے بہت کم ہے۔ اس اسٹرئیک ریٹ کے ساتھ آپ 250 اسکور ہی کرسکتے ہیں جبکہ آج کل ون ڈے کرکٹ 300 پلس رنز پر کھیلی جار ہی ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ بین الاقوامی ماہرین بابر کے وکٹ پر کھڑے رہنے کو پاکستان کی ناکامی کی وجہ قرار دے رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بابر سلو کھیل کر رن ریٹ اتنا خراب کردیتے ہیں کہ نئے آنے والے بیٹسمین کیلئے اسکو پورا کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔ جس سے پاکستان کو شکست ہوتی ہے۔ جس میچ میں بابر اعظم جلد آوٹ ہوجاتے ہیں اس میچ کو جیتنا پاکستان کے لئے آسان ہوتا ہے۔ اگر یہ چھاپ بابر اعظم کے اوپر لگ گئی ہے تو ایک کنگ بیٹسمین کیلئے یہ انتہائی تشویش ناک ہے۔

بابر اعظم نے سال 2026 میں تمام 8 میچز ہوم گراونڈز پر کھیلے اور اس میں ان کا سب سے زیادہ اسکور69 رنز ہے۔ بابر اعظم اگر ہوم کنڈیشنز میں بڑا اسکور نہیں کررہے توآئندہ سال جنوبی افریقہ میں ہونے والے ورلڈ کپ میں ان سے میچ وننگ پارفارمنس کی امید کیسے لگائی جاسکتی ہے۔ اب تو سوشل میڈیا پر بابر کا مذاق بنایا جارہا ہے۔ سابق ٹیسٹ کرکٹر تنویر احمد نے ایک بیان دیا کہ بابر اعظم کنگ کھلاڑی ہیں بس وہ اسپنر، فاسٹ بولر کی اندر آتی ہوئی گیند اور باونسر پر پھنس رہے ہیں باقی وہ بہترین بلے باز ہیں۔ جس پر ناقدین ان سے سوال کررہے ہیں کہ پھر کھیلنے کو بچا کیا جب اسپنر اور فاسٹ بولر پر اسٹرگل کر رہے ہیں تو کیا بابر کو دو ٹپے والی گیند کرائی جائے۔

اب کچھ بات کرلیتے ہیں ٹیسٹ کرکٹ کی۔ بابر اعظم ٹیسٹ ٹیم کے کپتان ہیں۔ لیکن کارکردگی ٹیسٹ میں بھی مایوس کن ہی ہے۔ ٹیسٹ کرکٹ میں بابر کو سنچری کیے 4 سال ہوگئے۔ آخری بار بابر اعظم نے دسمبر 2022 میں کراچی میں نیوزی لینڈ کے خلاف 161 رنز کی اننگز کھیلی تھی۔ اس کے بعد بابر کو ایسی نظر لگی کہ 20 اننگز تک وہ نصف سنچری بھی نہ کرسکے۔ ان 20 اننگر میں بابر کا سب سے زیادہ اسکور 41 رنز رہا۔ 2026 میں بابر کے بیٹ سے کچھ گرد ہٹی ہے۔ اس سال وہ سنچری تو نہ کرسکے لیکن 10 اننگز میں 4 نصف سنچریاں ضرور اسکور کی ہیں۔ سری لنکا کے خلاف ہوم سیریز میں بابر اعظم سے بڑی امیدیں ہیں۔ کنگ بابر کو اپنی ساکھ کو بچانے کیلئے صرف بڑا اسکور ہی نہیں کرنا ہوگا بلکہ میچ وننگ اننگز بھی کھیلنا ہوں گی۔ بابر ایک عظیم بیٹسمین ہیں ان کو اب سوچنا ہوگا کہ سوشل میڈیا کے کنگ رہنا چاہتے ہیں یا کرکٹ کے میدانوں کے۔ کیوں کہ سوشل میڈیا کے کنگز تو بدلتے رہتے ہیں لیکن میدان کے کنگ ہمیشہ یاد رکھے جاتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *