سینیٹ میں بھی ٹرمپ کو ایران کے ہاتھوں شکست؛ وہ بھی بری طرح!

ریپبلکنز اور ڈیموکریٹس میں کوئی خاص فرق نہیں، تاہم ٹرمپ کی انتخابی شکست ایران کے خلاف جنگ میں اس کی ناکامی کا ایک اور ثبوت ہے۔

امریکی ذرائع ابلاغ کے جاری کردہ انتخابی نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ ٹرمپ سینیٹ کے انتخابات بھی ہار گئے ہیں، جبکہ 95 فیصد سے زیادہ امکان ہے کہ ایوانِ نمائندگان بھی ڈیموکریٹس کے ہاتھ میں چلا جائے گا۔

امریکی سیاسی جماعتوں کے ایران کے ساتھ رویے کے بارے میں درست بات یہی ہے کہ ’’زرد کتا، گیدڑ کا بھائی ہے‘‘؛ یعنی دونوں جماعتیں ایران، دیگر اقوام اور دنیا کے ممالک کے حوالے سے کسی خیرخواہی کا مظاہرہ نہیں کرتیں۔ تاہم، یہ بات فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ ان انتخابات میں ٹرمپ کی بھاری شکست، ایران کے خلاف جنگ میں ایران کی کامیابی کا ایک اور اشارہ ہے اور اس پر خوش ہونا چاہیے۔

گزشتہ چند ماہ کے دوران امریکہ کے مختلف اداروں کی جانب سے کیے گئے متعدد عوامی جائزوں میں تقریباً 86 فیصد امریکیوں کا خیال تھا کہ ایران کے خلاف جنگ چھیڑنے کے نتائج آنے والے دنوں میں امریکی عوام کی معیشت اور گھریلو اخراجات پر مزید بوجھ ڈالیں گے، جس سے ایندھن اور دیگر اشیائے ضروریہ مہنگی ہوں گی۔

ان ہی جائزوں میں امریکیوں کی اکثریت کا خیال تھا کہ ایران کے خلاف جنگ پر اتنی بھاری قیمت چکانا فائدہ مند نہیں تھا۔ صرف 23 فیصد امریکیوں کا ماننا تھا کہ ٹرمپ کے پاس ایران کے خلاف جنگ کے حوالے سے کوئی واضح حکمتِ عملی موجود ہے۔

50 فیصد سے زائد امریکیوں نے کہا تھا کہ کانگریس کے انتخابات میں ان کا ووٹ دراصل ٹرمپ کے خلاف احتجاجی ووٹ ہوگا۔

ایران کے ساتھ جنگ میں امریکہ کی ناکامی کے بعد ٹرمپ کی مقبولیت بھی اپنی کم ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔

لہٰذا، ٹرمپ اور ریپبلکنز کی انتخابی شکست یقیناً ایران کے خلاف جنگ میں ایران کی کامیابی کا ایک اور ثبوت ہے۔ تاہم، ڈیموکریٹس بھی جرائم اور بداعمالیوں میں ریپبلکنز سے کسی طور کم نہیں ہیں۔ ایران اپنی کسی بھی پالیسی کا تعین اس بنیاد پر نہیں کرتا کہ کانگریس اور وائٹ ہاؤس میں کون موجود ہے، یعنی ہاتھی (ریپبلکنز) یا گدھے (ڈیموکریٹس)۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *