بریکنگ نیوز: چین ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جنگ کے دلدل سے نہیں نکالے گا، فارن پالیسی میگزین

نے فارن پالیسی میگزین کے لئے لکھے گئے تجزیئے میں ایران پالیسی پر چین کے موقف کا جائزہ لیا ہے اور ان کا ماننا ہے کہ بیجنگ کے پاس تہران کو امریکی شرائط ماننے پر مجبور کرنے کا کوئی محرک نہیں ہے، اور چین خطے میں ‘کم از کم امریکی کردار’ کے ساتھ علاقائی سلامتی نظام کو مستحکم کرنے کے حق میں ہے۔
امریکی تجزیہ نگار اور دی واشنگٹن انسٹی ٹیوٹ فار نیئر ایسٹ پالیسی میں ایک سینئر محقق، ہنری ٹوگینڈہیٹ (Henry Tugendhat) نے فارن پالیسی میگزین کے لئے لکھے ہوئے تجزیئے میں ایران پالیسی پر چین کے موقف کا جائزہ لیا ہے اور ان کا ماننا ہے کہ بیجنگ کے پاس تہران کو امریکی شرائط ماننے پر مجبور کرنے کا کوئی محرک نہیں [یعنی چین کے خیال میں ٹرمپ کو تہران کے ساتھ جنگ کے منفی اثرات سے بچانے کی کوئی وجہ نہیں ہے] اور چین خطے میں کم از کم امریکی کردار کے ساتھ علاقائی سلامتی نظام کو مستحکم کرنے کے حق میں ہے۔
مضمون کا خلاصہ:
چین کا مؤقف:
چین ایران پر، امریکی شرائط پر، جنگ ختم کرنے کے لئے دباؤ ڈالنے کا خواہاں نہیں ہے۔
مغربی ایشیا میں امریکہ کا کردار کم از کم کرنا، اور خطے کے ممالک کی اپنی سلامتی کی ذمہ داری اپنے ہاتھ میں لینا، چینی خارجہ پالیسی کے دیرینہ اہداف میں سے ایک ہے اور یہ پالیسی بیجنگ-تہران تعلقات کے مشترکہ محوروں میں بھی شامل ہے۔
علاقائی سلامتی نظام:
چین خطے کے ممالک کی مرکزی حیثیت پر مبنی ـ اور امریکہ پر کم انحصار پر استوار ـ سلامتی ڈھانچے کی تشکیل کی حمایت کرتا ہے۔
اگرچہ بیجنگ نے حالیہ برسوں میں امریکی افواج کے انخلا کے واضح مطالبات سے پرہیز کیا ہے، لیکن وہ کثیر قطبی نظام میں ممالک کی سیکورٹی خودمختاری پر زور دیتا آیا ہے۔
چین-ایران تعلقات کا پس منظر:
چین نے تہران کے رویے پر تنقید کے ادوار میں بھی ایران کے ساتھ تعلقات کو نقصان پہنچانے سے گریز کیا۔
مثال کے طور پر ایران-عراق جنگ کے دوران، اگرچہ چین نے غیر جانبدار ممالک کے تجارتی جہازوں پر حملے روکنے کے لئے سلامتی کونسل کی قرارداد کی حمایت کی، لیکن وہ سلامتی کونسل کا واحد مستقل رکن تھا جس نے خلیج فارس میں بحری راستوں کے تحفظ کے لئے اپنے بحری جنگی جہاز اس خطے میں نہیں بھجوائے۔
امریکہ کی کمزوری:
واشنگٹن کے پاس نہ چین پر دباؤ ڈالنے کے کافی ذرائع ہیں اور نہ ایران کے معاملے میں چین پر دباؤ ڈالنے کی خواہش۔ چنانچہ بیجنگ کے ہاں تہران کو امریکی شرائط ماننے پر مجبور کرنے کی کوئی وجہ یا محرک موجود نہیں ہے۔
چین کی سفارت کاری کے دو اہداف:
1۔ امریکہ سے نسبتاً آزاد علاقائی سلامتی نظام کی تشکیل میں مدد کرنا؛
2۔ خلیج فارس کے ممالک کے نزدیک چین کی تصویر بہتر بنانا، جو ایران کی فوجی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے میں بیجنگ کے کردار سے ناخوش ہیں۔
فارن پالیسی کے مطابق، بیجنگ کو قلیل مدت میں عرب ممالک سے تعلقات میں نمایاں بہتری یا چینی ہتھیاروں کی فروخت میں اضافے کی توقع نہیں ہے، تاہم چین خطے میں اپنے طویل مدتی مفادات کو آگے بڑھا رہا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔