بریکنگ نیوز: شام سعودی عرب اور ترکیہ کی معاشی رقابت کا میدان؛ ریاض سرمایہ لگا رہا ہے، انقرہ اپنا اثر و رسوخ بڑھا رہا ہے

جولانی حکومت اپنے علاقائی اتحادیوں کے درمیان توازن قائم رکھنے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ سعودی عرب اور ترکیہ نے شام میں معاشی اثر و رسوخ بڑھانے کے لیے غیر اعلانیہ مقابلہ شروع کر رکھا ہے۔ ریاض سرمایہ کاری اور مالی معاونت کے ذریعے آگے بڑھ رہا ہے، جبکہ انقرہ ادارہ جاتی، فنی اور تکنیکی شعبوں میں اپنی گرفت مضبوط کر رہا ہے۔
جولانی حکومت کے شام میں اقتدار سنبھالنے کے بعد گزشتہ 20 ماہ کے دوران اس ملک میں ترکیہ اور سعودی عرب کے درمیان غیر اعلانیہ معاشی مقابلہ جاری ہے۔ اس مقابلے کے آثار دونوں ملکوں کے اقتصادی وفود کے مسلسل دوروں، مفاہمتی یادداشتوں اور طے پانے والے معاہدوں میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔
لبنانی اخبار الاخبار کی رپورٹ کے مطابق، ایسا لگتا ہے کہ جولانی حکومت ان دونوں ملکوں کے ساتھ معاشی تعلقات میں توازن پیدا کرنے اور ان کے لیے ایک منظم ڈھانچہ تشکیل دینے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس طرح وہ ایک طرف اپنی بین الاقوامی حیثیت اور قبولیت مضبوط بنانا چاہتی ہے تو دوسری جانب غیر ملکی سرمایہ کاری بھی حاصل کرنا چاہتی ہے۔
تاہم، اب بھی کئی عوامل ایسے ہیں جو ان تعلقات کی سمت، نوعیت اور حجم کا تعین کر رہے ہیں۔ ان میں سرفہرست دونوں ملکوں کی جولانی حکومت کے بااثر حلقوں میں سیاسی اور سماجی حیثیت، حکومتی فیصلوں پر اثرانداز ہونے والی شخصیات کے ذاتی رجحانات اور ہنگامی نوعیت کے تعلقات پر مبنی وہ پالیسی ہے جس کے تحت جولانی حکومت بشار اسد حکومت کے بعض اتحادیوں کے ساتھ تعلقات برقرار رکھنے کا جواز پیش کرتی ہے۔
مذکورہ عرصے کے دوران جولانی حکومت کے سعودی عرب اور ترکیہ کے ساتھ تعاون کا جائزہ لینے سے ظاہر ہوتا ہے کہ معاشی اور فنی موجودگی کے حجم کے اعتبار سے دونوں ملک تقریباً ایک ہی سطح پر ہیں۔ اس کا اندازہ مفاہمتی یادداشتوں، تعاون کے معاہدوں اور سرمایہ کاری کے طے پانے والے سمجھوتوں کی تعداد سے لگایا جا سکتا ہے۔ تاہم، ان کی سرگرمیوں کی نوعیت، مقاصد اور جن شعبوں میں وہ کام کر رہے ہیں، ان کا جائزہ لیا جائے تو دونوں ملکوں کے درمیان ایک پوشیدہ مقابلہ واضح ہوتا ہے۔ شام میں تیزی سے معاشی سرگرمیاں شروع کرنے کے حوالے سے بعض دوسرے ملکوں کا محتاط رویہ بھی اس تاثر کو تقویت دیتا ہے۔
شام کے تیل اور بجلی کے شعبوں میں مختلف تجارتی اور کاروباری ناموں کے تحت سرگرم قطری گروپ الخیاط کی وسیع موجودگی، جسے امریکہ کی حمایت اور شراکت بھی حاصل ہے، کو الگ رکھا جائے تو ریاض اور انقرہ کے ساتھ طے پانے والی مفاہمتی یادداشتیں، تعاون کے معاہدے اور سرمایہ کاری کے سمجھوتے، گزشتہ سال کے آغاز سے رواں سال ستمبر تک جولانی حکومت کی جانب سے کیے گئے مجموعی معاہدوں کا تقریباً دو تہائی بنتے ہیں۔
سعودی عرب کی مالی معاونت
سعودی عرب اور جولانی حکومت کے درمیان معاشی تعاون دونوں کے مشترکہ مفادات پر مبنی ہے۔ سعودی عرب بشار اسد حکومت کے خاتمے اور ایران کی فوجی، سیاسی اور معاشی موجودگی کے ختم ہونے کے بعد پیدا ہونے والے خلا کو پُر کرنا چاہتا ہے۔ ریاض کے نزدیک اگر اس خلا میں عرب ملکوں نے اپنی موجودگی یقینی نہ بنائی تو تباہ حال شام میں ترکیہ کا اثر و رسوخ مزید بڑھ سکتا ہے۔
دوسری جانب جولانی حکومت بھی سعودی عرب کی حمایت حاصل کرنا چاہتی ہے، کیونکہ عرب اور اسلامی دنیا میں اس ملک کا خاصا وزن ہے۔ اس سے ایک طرف جولانی حکومت کی بنیادیں مضبوط ہو سکتی ہیں تو دوسری جانب اسے آنے والے مرحلے کے چیلنجز کا سامنا کرنے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔ اس مرحلے کے دو بڑے چیلنجز سلامتی اور معیشت سے متعلق ہیں۔
اسی تناظر میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی جانب سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت پر شام سے پابندیاں ختم کرنے کے لیے دباؤ ڈالنے کی کوششوں کو سمجھا جا سکتا ہے۔ اسی طرح سعودی عرب کی جانب سے جولانی حکومت کے محکمۂ سلامتی اور سرحدی محافظوں کو فراہم کی جانے والی امداد، گزشتہ سال 16 لاکھ 50 ہزار بیرل تیل کی فراہمی اور ریاض کی دیگر معاونت کو بھی اسی تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔
اسی سلسلے میں اخبار الاخبار کے مرتب کردہ اعداد و شمار کے مطابق، گزشتہ چند ماہ کے دوران تقریباً 24 تقریبات، اجلاس اور دیگر سرگرمیاں ریکارڈ کی گئی ہیں، جن میں قریب 67 مفاہمتی یادداشتوں اور تقریباً 12 تعاون کے معاہدوں پر دستخط کیے گئے۔ ان میں سے پانچ تقریبات میں ایک سے زیادہ دستاویزات پر دستخط ہوئے۔
مثال کے طور پر، گزشتہ سال جولائی میں شام اور سعودی عرب کے سرمایہ کاری فورم کے اجلاسوں کے موقع پر اعلان کیا گیا کہ دونوں ملکوں کے درمیان تقریباً 47 مفاہمتی یادداشتیں طے پائی ہیں، جن کی مجموعی مالیت تقریباً 6 ارب ڈالر ہے۔ تاہم، ان مفاہمتی یادداشتوں کی تفصیلات مناسب طور پر جاری نہیں کی گئیں۔
اسی طرح گزشتہ سال اگست میں ایک معاہدے اور چھ مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔ ان کا تعلق بجلی کے منصوبوں، بجلی کی ترسیل اور تقسیم کے اسٹیشنوں، جغرافیائی اور ارضیاتی مطالعات، تیل کے کنوؤں سے متعلق خدمات، کنوؤں کی کھدائی اور دیکھ بھال، فنی تربیت، افرادی قوت کی ترقی اور تیل و گیس کے ذخائر کی ترقی اور انتظام کے لیے جامع حل فراہم کرنے سے تھا۔
مجموعی طور پر ریاض کے ساتھ طے پانے والے زیادہ تر معاہدوں، مفاہمتی یادداشتوں اور سمجھوتوں کی نوعیت مالی معاونت اور سرمایہ کاری پر مبنی ہے۔ تیل و گیس، جائیداد، نقل و حمل، ہوابازی، صنعت، زراعت، مواصلات اور ڈیجیٹل ترقی جیسے شعبوں پر توجہ، جن کے لیے بھاری سرمایہ کاری درکار ہوتی ہے، اس بات کا ثبوت ہے۔
تاہم، اس کا مطلب یہ نہیں کہ سعودی عرب کے جولانی حکومت کے ساتھ تعلقات صرف نجی شعبے کی سرمایہ کاری تک محدود ہیں۔ سعودی وزارتوں اور سرکاری اداروں نے بھی شام کے بنیادی ڈھانچے اور عوامی خدمات کے شعبوں میں براہِ راست کام شروع کیا ہے۔ گزشتہ فروری میں طے پانے والے معاہدوں کا پیکیج اس کی تصدیق کرتا ہے۔
اس کے باوجود، سیاسی سطح پر حوصلہ افزائی کے باوجود شام میں معاشی سرگرمیوں کا آغاز اب بھی محتاط اور مرحلہ وار انداز میں ہو رہا ہے۔ بالخصوص ایسے بڑے سرمایہ کاری منصوبوں میں جن پر بھاری مالی اخراجات آتے ہیں اور جن کے لیے درکار وسائل اندرونِ ملک حصص فروخت کرکے جمع کرنا ممکن نہیں۔
یہ صورت حال سعودی عرب کی بعض سرکاری کمپنیوں اور اداروں کی سرگرمیوں سے مختلف ہے، جنہوں نے اپنے شامی ہم منصبوں کے ساتھ طے پانے والے بعض معاہدوں پر عمل درآمد شروع کر دیا ہے۔ ان میں پانی کے میٹروں سے متعلق معاہدہ بھی شامل ہے۔ بعض دوسرے ادارے مفاہمتی یادداشتوں کو عملی معاہدوں میں تبدیل کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔
ترکیہ کی فنی مہارت؛ تربیت، سلامتی اور دفاع کے شعبے میں پیش قدمی
جیسا کہ توقع تھی، جولانی حکومت کے لیے ترکیہ کے ساتھ معاشی اور فنی تعاون کو خصوصی اہمیت حاصل رہی ہے۔ غالباً یہی وجہ ہے کہ اس تعاون میں کئی مختلف شعبوں کو شامل کیا گیا ہے۔
سعودی عرب، قطر اور دیگر ملکوں کی طرح ترکیہ بھی اہم شعبوں میں سرگرم ہے، تاہم اس نے دفاع، سلامتی اور اعلیٰ تعلیم کے شعبوں میں بھی مضبوط موجودگی قائم کر لی ہے۔ اس سے پہلے بھی بشار اسد حکومت کے خاتمے کے ابتدائی دنوں ہی سے ترکیہ کی مصنوعات اسمگلنگ اور درآمدات کے ذریعے شام کی منڈیوں میں بھر گئی تھیں۔
ابتدائی اندازوں کے مطابق، اس عرصے میں تقریباً 22 تقریبات ریکارڈ کی گئی ہیں، جن کے دوران قریب 9 تعاون کے معاہدوں، تقریباً 18 مفاہمتی یادداشتوں، ایک تعاون کے پروٹوکول اور ایک حتمی معاہدے پر دستخط کیے جانے کا اعلان کیا گیا۔
گزشتہ سال اگست میں بھی ایک ایسی تقریب منعقد ہوئی جس میں 10 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔ یہ اعداد و شمار جولانی حکومت کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے جاری کیے، جبکہ ترکیہ کے ذرائع ابلاغ نے اسی تقریب میں 18 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط ہونے کی خبر دی تھی۔
ان دستاویزات میں توانائی، نقل و حمل، زراعت، مقامی انتظامیہ، صحت، اعلیٰ تعلیم، دفاع، صنعت اور دیگر کئی اہم شعبے شامل ہیں۔
یہ وسیع دائرہ کار شام میں ترکیہ کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو ظاہر کرتا ہے۔ ترکیہ کی موجودگی محض سرمایہ کاری کرنے والے اور مالی وسائل فراہم کرنے والے شراکت دار کی نہیں، بلکہ وہ ادارہ جاتی، فنی اور تکنیکی تعاون کے ذریعے بھی اپنا اثر بڑھا رہا ہے۔
اس صورت حال نے شام کے متعدد ماہرینِ معیشت کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے، جنہوں نے اس حوالے سے دو بنیادی وجوہات بیان کی ہیں۔
پہلی وجہ یہ ہے کہ انقرہ کے ساتھ تعاون کے نتیجے میں ترکیہ کو شام کے سرکاری اداروں کے کام کرنے کے طریقۂ کار سے متعلق وسیع معلومات جمع کرنے کا موقع مل سکتا ہے۔ یہاں تک کہ خودکار نظام اور ڈیجیٹلائزیشن کے منصوبوں پر عمل درآمد کے بہانے ان اداروں کے ریکارڈ کی ایک مخصوص نقل بھی ترکیہ کے پاس محفوظ ہو سکتی ہے۔
اس کے علاوہ، جولانی حکومت کے فیصلہ ساز اداروں میں ترکیہ کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ پر پہلے ہی سے تشویش پائی جاتی ہے، کیونکہ اس حکومت کی متعدد اہم شخصیات نے طویل عرصہ ترکیہ میں گزارا ہے اور ان میں سے بعض کے پاس ترکیہ کی شہریت بھی ہے۔
دوسری وجہ جنگ سے پہلے ترکیہ کے لیے وسیع اور غیر منظم معاشی دروازے کھولنے کے تلخ تجربے سے تعلق رکھتی ہے۔ اس عمل کے نتیجے میں شام کے ہزاروں صنعتی یونٹس، کارخانوں، پیداواری اداروں اور پیشہ ورانہ مراکز کی بندش میں مدد ملی، جبکہ اس کے فوائد مسلسل ترکیہ کے حصے میں جاتے رہے۔
مثال کے طور پر، اب تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ ترکیہ کے ٹرکوں کو شام کی سرزمین سے گزرتے وقت ٹرانزٹ ٹیکس سے کیوں مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔ اسی طرح شامی عوام کو ترکیہ کی جانب سے کی جانے والی کسی بڑی سرمایہ کاری یاد نہیں، جو خلیج فارس کے عرب ملکوں کی سرمایہ کاری کے برابر ہو۔
اگرچہ نئے مرحلے میں ترکیہ، قطر اور امریکہ نے دمشق کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کی ترقی اور توسیع کے لیے مشترکہ تعاون شروع کیا ہے، جس کی مالیت تقریباً 4 ارب ڈالر ہے، لیکن ایسا لگتا ہے کہ دوسرے شعبوں میں اتنی بڑی مالی معاونت دوبارہ دیکھنے میں نہیں آئے گی۔
باہمی بداعتمادی؛ سیاسی تعلقات کے سائے میں مقابلہ
اس امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا کہ مستقبل میں شام میں سعودی عرب اور ترکیہ کی مشترکہ سرمایہ کاری کا اعلان ہو۔ تاہم، اس کا مطلب یہ نہیں ہوگا کہ دونوں میں سے کسی ایک ملک کو دوسرے کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ پر اعتماد حاصل ہو گیا ہے۔ یہ صورت حال اس کے باوجود برقرار رہ سکتی ہے کہ جولانی حکومت عرب دنیا اور خطے کے دیگر ملکوں کے ساتھ بہتر تعلقات قائم کرنے کی خواہش کے پیغامات دے رہی ہے۔
ریاض کو ہمیشہ یہ بات یاد رہتی ہے کہ ترکیہ نے 2011ء سے پہلے معاشی تعلقات کے ذریعے اور عرب ملکوں کے ساتھ تعلقات کو کمزور کرکے بشار اسد حکومت کو اپنے قریب کر لیا تھا۔ اب جبکہ ترکیہ کے حکومتی نظام سے قریبی تعلق رکھنے والی متعدد شخصیات جولانی حکومت کے فیصلہ ساز اداروں میں موجود ہیں اور اس حکومت کی بعض مذہبی شخصیات بھی اسلامی تعلقات کی بنیاد پر ترکیہ کے ساتھ روابط کی حمایت کرتی ہیں، تو سعودی عرب کے لیے یہ تشویش کس حد تک بڑھ سکتی ہے؟
دوسری جانب ترکیہ کی سب سے بڑی تشویش سعودی عرب کی وسیع مالی صلاحیت اور وسائل کی برتری ہے۔ جولانی حکومت کو شام کی بگڑتی ہوئی معاشی اور عوامی صورت حال کو مزید خراب ہونے سے روکنے کے لیے ان وسائل کی شدید ضرورت ہے۔
اس کے علاوہ، نسلی اور مذہبی وجوہات کی بنا پر شام میں سعودی عرب کی موجودگی کو عوامی سطح پر وسیع حمایت حاصل ہے، جبکہ ترکیہ کی موجودگی کو شام کے مختلف سماجی حلقوں میں بڑھتی ہوئی مخالفت کا سامنا ہے۔ بعض حلقے ترکیہ کی موجودگی کو غیر مخلصانہ عزائم سے بھی جوڑتے ہیں، خصوصاً اس لیے کہ ترکیہ کی فوج کئی سال پہلے شام میں داخل ہوئی تھی اور اب بھی اس ملک کے شمالی علاقوں کے ایک وسیع حصے پر اس کا کنٹرول برقرار ہے۔